Monday, 2 May 2022

FOREWORD to 99 Names of ALLAH (Urdu)

پیش لفظ

مذہب پر تحقیقات کرنے والوں نے بتایا ہے کہ پروردگار عالم کے ۳۰۰۰ نام ہیں۔ ان میں سے ایک ہزار ایسے نام ہیں جن سے صرف فرشتے واقف ہیں۔ ایک ہزار ایسے ہیں جن سے صرف انبیائے کرام آگاہ تھے علاوہ ازیں تین سو نام توریت کے پرانے نسخوں میں پائے جاتے ہیں اور ۳۰۰ نام زبور میں۔ نیز ۳۰۰ نام زبور کے نئے نسخوں میں موجود ہیں۔ ۹۹ اسمائے حسنیٰ قرآن حکیم میں موجود ہیں جن کی مجموعی تعداد ۲۹۹۹ ہے۔

ایک نام ایسا ہے جس کو پروردگار عالم نے پوشیدہ رکھا ہے اور اس کو اسم اعظم کہا جاتا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کے تمام نام عظیم ہیں، لیکن اُس نے اپنے اس مخصوص نام کو پشیدہ رکھا ہے۔ جو قرآن کریم میں موجود ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے:

حضرت اسماءؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم قرآن کریم کی دو آیات میں موجود ہے، وہ جو ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور جن کے لئے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ "یا رب" اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔

جو لوگ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں وہ بغیر جانے ہوئے اُس کے اسم اعظم کی بھی تلاوت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہ اس اسم اعظم سے واقف تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ "خلیفہ چہارم" ان میں سے ایک تھے جو اسم اعظم کے جاننے والے تھے۔

اُس نے اپنی ان نعمتوں کو اس لئے پوشیدہ رکھا ہے کہ لوگ ہمیشہ اچھے عمل کریں۔

اپنے اسم اعظم کو قرآن میں اس لئے پوشدہ رکھا کہ لوگ خ وص کے ساتھ پورے قرآن کی تلاوت کریں، اور اس کے ۹۹ ناموں کو حفظ کرلیں۔ ناموں کا صرف حفظ کرلینا ہی مقص نہیں ہے بلکہ مقصد خاص یہ ہے کہ اس ذات سے اچھی طرح واقفیت پیدا کی جائے جس کے یہ اسمائے حسنیٰ ہیں۔

ایک حدیث میں آیا ہے جس کے روای حضرت امامہؓ ہیں، اسم اعظم جس کے توسل سے دعا قبول ہوتی ہے، قرآن کریم کی حسبِ ذیل تین سورتوں میں پوشیدہ ہے: البقرۃ آل عمران اور طہ۔

پروردگار عالم کے اسمائے حسنیٰ کا انسانی زندگی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ زندگی کے ہر شعبے کا ان اسمائے باری تعالیٰ میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ جب کسی مسلمان کا نام رکھا جاتا ہے تو اس کا تعلق اللہ کے ۹۹ ناموں میں سے کسی نام کے ساتھ ہوتا ہے جس کی ابتداء "عبد" سے ہوئی ہے۔ عبد کے معنی بندے یا غلام کے ہیں۔

جو شخص اللہ کے نام کا وِرد کرنا چاہتا ہو تو اُس کو چاہیے کہ پہلے سات سو بار کلمہ توحید کا وِرد کرے اور اس عمل کو شروع کرنے سے پہلے غسل اور وضو کرے جس طرح نماز کے لئے تیاری کی جاتی ہے۔

لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ
(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)۔

اسمائے باری تعالیٰ کے وِرد کے دوران میں گوشت نہ کھائیے۔ وہ مقام پاک صاف ہو جہاں پر عمل کیا جائے۔ اگر ان ہدایات پر پوری طرح عمل کیا جائے تو پروردگارِ عالم عمل کرنے والے کو بہت جلد اس کے عمل کا اجر عطا فرماتا ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس عمل کو رات کے وقت تنہائی میں کیا جائے۔

یہ بات یاد رکھی جائے کہ جو شخص تلوار کے صحیح استعمال سے واقف نہیں ہوتا وہ اپنی ہی تلوار سے خود کو زخمی کرلیتا ہے۔ اس عمل کے کرنے والوں کے لئے یہ بات بہت ضروری ہے کہ وہ نہایت ادب و احترام اور خشوع خضوع کے ساتھ اس عمل کو کریں۔ اگر اس عمل کو شیخ کی ہدایات کے مطابق نہ کیا گیا تو اس بات کا قوی احتمال ہے کہ یا تو خود عمل کرنے والے کو یا اس کے گھر کے کسی فرد کو نقصان پہنچ جائے۔

بعض لوگ اسمائے حسنیٰ کے وِرد کاصلہ بہت جلد جاہتے ہیں۔ قطع نظر اس حقیقت سے کہ یہ صلہ ان کے لئے مفید ہوگا یا مضرثابت ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے جب کچھ طلب کیا جائے تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس چیز کو اس طرح طلب کرے: "اے اللہ! اگر یہ چیز میرے لئے بہتر ہے تو مجھے عنایت فرمادیں اور اگر مضر ہے تو مجھے عنایت نہ فرما!"

اسمائے حسنیٰ کا وِرد کرنے والوں کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ راہِ راست پر ہوں۔ اللہ راہِ راست پر نہ ہونے والے کو بھی بہت کچھ عطا فرما دیتا ہے، لیکن راہِ مستقیم پر چلنے والوں و وہ ہمیشہ اپنی بہترین نعمتوں سے نوازتا ہے۔

اگر آپ ان ناموں کا وِرد کر رہے ہوں اور اس کے باو جود آپ کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوتی، تو آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ جس چیز کو آپ طلب کر رہے ہیں، وہ آکے لئے مناسب نہیں ہے۔

اس کتاب میں اسمائے حسنیٰ کے وِرد کا جو طریقہ کاردرج کیا گیا ہے، اُس میں اپنے شیوخ کی ہدایت کے مطابق تبدیلی کرسکتے ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کے اس تعارف کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو ان کے مطالب اور اثرات سے روشناس کرایا جائے۔

اس ضمن میں آپ کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے شیوخ سے ضرور مشورہ کرلیں!
اور اللہ تعالیٰ کے سب نام اچھے ہیں اور اسے اس کے ناموں سے پکارا کرو۔

No comments:

Post a Comment